Why is Netanyahu constantly disrupting Trump's dream of a "complete victory"?


نٹن یاہو کی ڈونلڈ ٹرمپ کے 'عظیم الشان وژن' پیٹھ پر چھرا گھوپنے کی اندرونی کہانی: وائٹ ہاؤس کے 'کامل فتح' کے خواب اسرائیلی وزیرِ اعظم کی ذاتی بقا کے لیے زہرِ قاتل کیوں بن گئے؟

 "امریکہ اور ایران کے درمیان جب بھی امن کی بات ہوتی ہے، نٹن یاہو غزہ اور لبنان میں بارود کی برسات کر دیتے ہیں!" بین الاقوامی سیاسی مبصرین اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس عجیب و غریب تماشے پر دنگ ہیں جہاں واشنگٹن اور تہران کے درمیان بیک چینل مذاکرات اور جنگ بندی کے اعلانات کو کوئی اور نہیں، بلکہ امریکہ کا اپنا ہی فرنٹ لائن اتحادی اسرائیل سبوتاژ کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب بھی سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف ان کی "کامل فتح" اور تاریخی معاہدہ چند گھنٹوں کی دوری پر ہے، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نٹن یاہو فوراً اپنے جنگی طیاروں کو بیروت اور غزہ پر ہولناک بمباری کا حکم دے دیتے ہیں۔ ٹرمپ کا فتح کا دعویٰ اور نٹن یاہو کی عسکری مہم جوئی دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ بن چکے ہیں، جس پر طیش میں آ کر صدر ٹرمپ نے نٹن یاہو کو سرِعام "پاگل" قرار دے دیا ہے۔ لیکن کیا نٹن یاہو واقعی پاگل ہیں؟ بالکل نہیں؛ وہ اس وقت پوری دنیا میں اپنی سیاسی اور ذاتی زندگی کی سب سے شاطرانہ چال چل رہے ہیں۔

سفارتی ریکارڈ کے مطابق، سال ۲۰۲۶ کے آغاز سے اب تک نٹن یاہو نے کئی بار امریکی صدر کے منصوبوں کو مٹی میں ملایا ہے۔ اس کی چند سنسنی خیز مثالیں درج ذیل ہیں:

By clicking the link, you will help provide education and food for children.

۱۔ امن مذاکرات اور نٹن یاہو کے خونی حملوں کا تسلسل

  • ۸ اپریل ۲۰۲۶: یہ وہ تاریخی دن تھا جب امریکہ اور ایران نے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویز پر باقاعدہ اتفاق کیا۔ صدر ٹرمپ نے فوراً ٹویٹ کیا کہ "ایران کو سزا اب ایک مکمل فتح میں بدلنے والی ہے"۔ لیکن ابھی ٹویٹ کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ نٹن یاہو نے لبنانی سرحد پر "ایٹرنل ڈارکنیس" (Eternal Darkness) نامی مہیب آپریشن شروع کر دیا، جس میں حزب اللہ کے ۱۰۰ سے زائد ٹھکانوں پر اب تک کی سب سے تباہ کن بمباری کی گئی۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، نٹن یاہو کے اس اقدام کے نتیجے میں اس دن ۸۹ معصوم شہری لقمہ اجل بنے اور ۷۲۲ زخمی ہوئے، جس نے جنگ بندی کے معاہدے کو شروع ہونے سے پہلے ہی دفن کر دیا۔

  • ۲۲ اپریل ۲۰۲۶: ایران نے اگرچہ پاکستان میں ہونے والے دوسرے دور کے مذاکرات میں شرکت سے معذرت کر لی تھی، لیکن صدر ٹرمپ نے انتہائی پرامید انداز میں ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا۔ اس کے جواب میں اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں "حزب اللہ کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی" کا خود ساختہ بہانہ بنا کر دوبارہ فضائی حملے شروع کر دیے۔ اس بار وحشیانہ حملوں کا دائرہ کار عام شہریوں سے بڑھا کر میڈیا اور طبی عملے تک پھیلا دیا گیا، جس میں ایک صحافی جاں بحق اور ریسکیو آپریشن کے دوران ایمبولینس پر حملے میں متعدد پیرامیڈیکس شدید زخمی ہوئے۔

  • ۲۳ اپریل ۲۰۲۶: جب امریکی جائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل کین نے یہ بیان دیا کہ امریکی فوج ایران کے خلاف دوبارہ آپریشن کے لیے تیار ہے، تو ٹرمپ نے پھر ٹویٹ کیا کہ ایران کے ساتھ جامع معاہدہ طے پانے والا ہے۔ نٹن یاہو نے اس امن کوشش کو ناکام بنانے کے لیے اسی وقت دو طرفہ محاذ کھول دیا؛ غزہ پر بمباری کر کے ۱۲ فلسطینیوں کو شہید کر دیا اور جنوبی لبنان کے علاقے 'بنت جبیل' میں خونریز معرکہ شروع کر دیا۔

۲۔ نٹن یاہو کو جنگ کی ضرورت کیوں ہے؟ بدعنوانی کے مقدمات کا خوف

امریکی میڈیا کے مطابق، نٹن یاہو یہ سب کچھ اسرائیل کے مفاد کے لیے نہیں بلکہ اپنی جان بچانے کے لیے کر رہے ہیں۔ سال ۲۰۲۰ کے آغاز میں اسرائیلی پراسیکیوٹرز نے نٹن یاہو کے خلاف باقاعدہ طور پر رشوت ستانی، دھوکہ دہی اور عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے تین سنگین مقدمات درج کیے تھے۔ وہ اسرائیل کی تاریخ کے پہلے برسرِاقتدار وزیرِ اعظم بنے جن پر عدالت میں مقدمہ چلا۔ ان کے خلاف سب سے بڑا مقدمہ "کیس 4000" ہے، جس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے وزیرِ اعظم اور وزیرِ مواصلات کی حیثیت سے ایک ٹیلی کام کمپنی کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا تاکہ اس کا میڈیا نیٹ ورک نٹن یاہو کے حق میں مثبت پروپیگنڈا کرے۔ اگر رشوت ستانی کا یہ جرم ثابت ہو جاتا ہے، تو نٹن یاہو کو کم از کم ۱۰ سال قیدِ بامشقت کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ دیگر دو مقدمات کی سزا ۳ سال قید ہے۔ ۱۰ دسمبر ۲۰۲۴ کو نٹن یاہو نے پہلی بار اس کرپشن کیس میں عدالت کے سامنے گواہی دی تھی، اور قانونی ماہرین کے مطابق سال ۲۰۲۶ کے وسط تک اس کا حتمی فیصلہ متوقع ہے جو انہیں سیدھا جیل بھیج سکتا ہے۔

ان حالات میں، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا برقرار رہنا نٹن یاہو کے لیے ایک "آئینی ڈھال" کا کام کر رہا ہے۔ جب تک ملک حالتِ جنگ میں ہے، عدالتیں سست روی کا شکار ہیں اور کسی بھی برسرِاقتدار "وار ٹائم پرائم منسٹر" کو جیل بھیجنا اسرائیل کے لیے ایک داخلی بحران بن سکتا ہے۔ امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ نٹن یاہو نے صدر ٹرمپ سے پردے کے پیچھے یہ درخواست بھی کی تھی کہ وہ دوبارہ صدر بن کر انہیں امریکہ میں "سیاسی پناہ" (Political Asylum) فراہم کریں، لیکن اسرائیل کے صدر ہرزوگ نے یہ کہہ کر اس منصوبے کو مسترد کر دیا کہ "اسرائیل ایک آزاد خودمختار ملک ہے اور یہاں کا عدالتی نظام کسی امریکی صدر کے اشارے پر کام نہیں کرے گا"۔ نٹن یاہو کے پاس اب صرف صدارتی معافی کا راستہ بچتا ہے، لیکن عوامی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ آدھے سے زیادہ اسرائیلی عوام انہیں معاف کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ لہٰذا، جیل کی ہوا کھانے سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جنگ کو طول دیا جائے۔

۳۔ سیاسی اتحاد کا بکھراؤ اور عدالتی نظام سے انتقام کا ڈر

اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا غبار چھٹ جاتا ہے اور "وار ٹائم وزیرِ اعظم" کا جادوئی ہالہ ختم ہو جاتا ہے، تو نٹن یاہو کا سیاسی مستقبل اندھیروں میں ڈوب جائے گا۔ کرپشن اسکینڈلز کی وجہ سے ان کے اپنے دائیں بازو کے کٹر اتحادی اب ان سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں۔ اگر جنگ رک گئی، تو حکمران اتحاد کے اندر پھوٹ پڑنا اور حکومت کا گرنا یقینی ہے۔

مزید برآں، جنگ کے دوران نٹن یاہو نے اسرائیل کے عدالتی نظام میں ایسی ترامیم (Judicial Reforms) کرنے کی کوشش کی تھی جس سے سپریم کورٹ کے اختیارات ختم ہو جائیں۔ وہ اقتدار میں رہتے ہوئے قانون کو کمزور کرنا چاہتے تھے تاکہ کوئی انہیں ہاتھ نہ لگا سکے، لیکن اگر اب وہ اقتدار سے محروم ہو گئے تو یہی عدالتی نظام ان سے عبرت ناک انتقام لے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بیرونی تنازعات کا خاتمہ نٹن یاہو کی زندگی کی سب سے بڑی تباہی بن چکا ہے۔

۴۔ مغرب کے سیاست دانوں کا اصل چہرہ اور عبرت ناک انجام

یہ صورتحال مغربی اور اسرائیلی سیاست دانوں کے اس اصل اور مکروہ چہرے کو بے نقاب کرتی ہے، جہاں ان کی اپنی ذات اور اقتدار کے سامنے معصوم انسانوں کے خون کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ نٹن یاہو کو اپنی جیل ٹالنے کے لیے اگر امریکی صدر ٹرمپ کے مڈ ٹرم الیکشن کا جنازہ نکالنا پڑے، یا غزہ اور لبنان کے لاکھوں معصوم بچوں اور شہریوں کو موت کے منہ میں دھکیلنا پڑے، تو وہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہیں ہچکچائیں گے۔ ایسے سفاک شخص سے انسانیت، عالمی مہنگائی، جنگ بندی یا مشرقِ وسطیٰ کے امن عمل پر بات کرنا محض ایک حماقت ہے۔ امریکی میڈیا کے اعداد و شمار گواہی دیتے ہیں کہ ٹرمپ نے جتنی بار "کامل فتح" کا راگ الاپا، نٹن یاہو نے امریکہ کو اس ہدف سے اتنا ہی دور دھکیل دیا۔ نٹن یاہو کا فارمولا بالکل سادہ ہے: "جب تک جنگ ہے، نٹن یاہو زندہ ہے؛ جس دن جنگ ختم ہوئی، نٹن یاہو کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا!"

Comments

Popular posts from this blog

Explosive news! The US, which has been feigning weakness, has finally revealed its fangs! The commander of Iran's Revolutionary Guard is "unknown to be alive," and the Supreme Leader has "vanished"!

What are the tricks to getting a US visa? Do I have to have a visa from another country first?