Has the US and Iran reached an agreement? Trump has fled to prepare for going it alone.
امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پا گیا؟ مشرقِ وسطیٰ میں سیز فائر اور اسرائیل کی تنہائی کی سنسنی خیز اندرونی کہانی: صدر ٹرمپ کا یوٹرن، نیتن یاہو کا اکیلے ہی جنگ لڑنے کا اعلان، اور آبنائے ہرمز پر تہران کا کنٹرول برقرار
واشنگٹن/یروشلم/تہران (خصوصی تجزیاتی رپورٹ): مشرقِ وسطیٰ کا ڈرامائی جیو پولیٹیکل منظرنامہ ایک بار پھر مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ خلیجِ فارس میں جنگ کے نعرے لگانے اور ایران کو کچلنے کی دھمکیاں دینے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اچانک یوٹرن لیتے ہوئے جنگ کے بٹن سے ہاتھ ہٹا لیا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ارنا' (IRNA) نے باقاعدہ طور پر تصدیق کر دی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (MoU) کا فریم ورک مکمل ہو چکا ہے، جس کے بعد تہران پر ممکنہ فوجی حملے کا منصوبہ عارضی طور پر پسِ پشت چلا گیا ہے۔ اس اہم ترین موڑ پر ایران کے سپریم لیڈر نے خود پبلک اسٹیج پر آ کر واضح کر دیا ہے کہ تہران اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ دوسری طرف، اس پورے مذاکراتی عمل سے مکمل طور پر بے خبر رکھے جانے پر اسرائیل شدید غصے میں ہے اور اسرائیلی وزیرِ دفاع کاٹز نے فوج کو آزادانہ کارروائی اور اکیلے ہی جنگ لڑنے کے لیے ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، نیتن یاہو اب یہ حقیقت تسلیم کر چکے ہیں کہ امریکہ انہیں منجدھار میں چھوڑ کر جا رہا ہے اور اب ایران سے نمٹنا صرف ان کا اپنا مسئلہ ہے۔
۱۔ ٹرمپ کا 'اسٹریٹجک فرار' اور اسرائیل کی پیٹھ میں چھرا
ماہرینِ خارجہ امور ٹرمپ کے اس اچانک سیز فائر کو ایک "اسٹریٹجک فرار" قرار دے رہے ہیں۔ امریکہ کا اصل مقصد اب اسرائیل کے تحفظ کے لیے ایران کو تباہ کرنا نہیں، بلکہ کسی بھی طرح عالمی توانائی کی سپلائی لائنز (Energy Routes) کو مستحکم کرنا، مشرقِ وسطیٰ کی دلدل سے نکلنا اور اپنے فوجی و سفارتی وسائل کو دیگر اہم عالمی محاذوں پر منتقل کرنا ہے۔
اسرائیل کے لیے سب سے زیادہ ناقابلِ قبول بات یہ ہے کہ اس مجوزہ معاہدے کے ڈرافٹ میں ایران کے خطرناک میزائل پروگرام اور خطے میں سرگرم مزاحمتی تنظیموں (حزب اللہ، حماس وغیرہ) کو مذاکرات کے ایجنڈے سے ہی باہر کر دیا گیا ہے۔ یہ وہ سرخ لکیر ہے جس پر اسرائیل کبھی راضی نہیں ہو سکتا تھا۔ اسرائیلی وزیرِ دفاع کاٹز نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ ٹرمپ یہ ڈیل صرف اور صرف امریکہ کے اپنے ذاتی مفادات کے لیے کر رہے ہیں، اس لیے اسرائیل اب کسی کے یکطرفہ وعدوں پر بھروسہ نہیں کرے گا اور اپنے تحفظ کے لیے خود طاقت کا استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
۲۔ ایران کا پانسہ پلٹ گیا: تہران کی شرائط پر ۶۰ روزہ بفر زون
دفاعی محاذ پر مضبوطی سے ڈٹے رہنے کے بعد، ایران نے اس معاہدے میں اپنی تمام تر شرائط منوا لی ہیں۔ دو مرحلوں پر مشتمل اس فریم ورک کے تحت:
پہلا مرحلہ (مکمل سیز فائر): لبنان، شام اور بحیرہ احمر سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مکمل جنگ بندی نافذ ہوگی۔
۶۰ دنوں کی مہلت: دونوں فریقین کو ۶۰ دن کا بفر پیریڈ ملے گا جس میں اثاثوں کی واپسی، پابندیوں کے خاتمے اور نیوکلیئر امور پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔
آبنائے ہرمز پر مشترکہ کنٹرول: ایران کا موقف ہے کہ آبنائے ہرمز کا انتظام صرف ایران اور عمان کے پاس رہے گا اور امریکہ کو اس میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہوگا۔
یورینیم کی ملک سے باہر منتقلی مسترد: ایرانی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اگر یورینیم کی افزودگی پر بات ہوگی بھی، تو وہ صرف ایران کے اندر ہی اسے ڈائلولیٹ (Dilute) کرنے تک محدود ہوگی، جوہری مواد کو ملک سے باہر کسی دوسرے ملک کی تحویل میں دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ایران کے سپریم لیڈر کا اس موقع پر عوامی سطح پر سامنے آنا ایک ماسٹر اسٹروک ثابت ہوا ہے، جس نے اندرونی طور پر عوام کو معاشی استحکام کا حوصلہ دیا اور بیرونی دنیا کو پیغام دیا کہ ایرانی قیادت انتہائی متحد ہے۔
By clicking the link, you will help provide education and food for children.
۳۔ خطے کے جیو پولیٹیکل نظام میں ۵ بڑی تبدیلیاں
اس عارضی امن کے پردے کے پیچھے پانچ ایسے بڑے سگنلز چھپے ہیں جو عالمی نظام کو بدل رہے ہیں: ۱۔ پاک امریکہ اور اسرائیل اتحاد کا خاتمہ: دہائیوں سے قائم امریکہ اور اسرائیل کا غیر مشروط اتحاد اب مفادات کی بھینٹ چڑھ چکا ہے اور امریکہ نے اپنے فائدے کے لیے اسرائیل کی سیکیورٹی ضروریات کو قربان کر دیا ہے۔ ۲۔ عالمی توانائی کے بحران میں کمی: آبنائے ہرمز کے کھلنے اور ایرانی تیل کی برآمدات سے پابندیاں ہٹنے کے اشارے ملتے ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کا بلبلہ بیٹھ گیا ہے، جو عالمی تجارت اور مینوفیکچرنگ کے لیے بڑی خوشخبری ہے۔ ۳۔ ایران مشرقِ وسطیٰ کی بڑی طاقت بن گیا: امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی گھیراؤ کا کامیابی سے مقابلہ کرنے کے بعد، ایران نے اپنے نیوکلیئر انفراسٹرکچر اور دفاعی صلاحیتوں کو مکمل طور پر محفوظ رکھتے ہوئے خود کو خطے کی ناقابلِ تسخیر طاقت ثابت کر دیا ہے۔ ۴۔ نیوکلیئر ہتھیاروں کی دوڑ پر بریک: دونوں ممالک نے جوہری معاملے کو ۶۰ دن کے لیے موخر کر دیا ہے، جس سے خلیجی ممالک میں جاری نیوکلیئر ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی وقتی دوڑ تھم گئی ہے۔ ۵۔ چھوٹے ممالک کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ: ماضی کے برعکس، اب مشرقِ وسطیٰ کے فیصلے صرف امریکہ اکیلا نہیں کر رہا، بلکہ پاکستان اور قطر جیسے ممالک اس پورے پسِ پردہ مذاکراتی عمل (Mediation) میں اہم ترین کردار بن کر ابھرے ہیں، جو کثیر القطبی (Multipolar) دنیا کی واضح دلیل ہے۔
۴۔ معاہدے کے اندر چھپے تین مہلک خطرات
یاد رہے کہ یہ امن صرف وقتی ہے کیونکہ اس معاہدے کی بنیادوں میں تین ایسے ٹائم بم نصب ہیں جو کسی بھی وقت پھٹ سکتے ہیں:
پہلا خطرہ: اس مفاہمت کی یادداشت (MoU) کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور نہ ہی یہ اقوامِ متحدہ سے تصدیق شدہ ہے۔ اگر ۶۰ دن کے اندر امریکہ نے ایران کے منجمد اثاثے بحال نہ کیے یا بحری ناکہ بندی ختم نہ کی، تو یہ ڈیل ایک سیکنڈ میں ٹوٹ جائے گی۔ اوپر سے ٹرمپ کی ماضی کی ناقابلِ اعتبار تاریخ اس ڈیل کی پائیداری پر سوالیہ نشان ہے۔
دوسرا خطرہ (اسرائیل کا ممکنہ حملہ): اسرائیل اس وقت سب سے خطرناک بارود کا ڈھیر بن چکا ہے۔ نیتن یاہو نے لبنان، شام اور غزہ میں قائم سیف زونز سے نکلنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، امریکی چھتری چھن جانے کے بعد اب اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے یکطرفہ فضائی حملوں اور ٹارگٹڈ کلنگ کا سہارا لے سکتا ہے۔
تیسرا خطرہ (اندرونی سیاسی دباؤ): امریکہ میں موجود طاقتور یہودی لابی اور ریپبلکن پارٹی کے ہاکس (Hawks) نے ٹرمپ پر ایران کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے الزامات لگانا شروع کر دیے ہیں، جبکہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے سخت گیر دھڑے بھی امریکہ پر بھروسہ کرنے کے خلاف ہیں۔ دونوں طرف کا اندرونی دباؤ کسی بھی وقت اس ڈیل کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔
حاصل کلام:
آنے والے چند دن انتہائی نازک ہیں جہاں جنیوا میں اس یادداشت پر باقاعدہ دستخط متوقع ہیں۔ اگر اس دوران اسرائیل کی فوج نے کوئی بھی یکطرفہ کارروائی کی، تو یہ عارضی امن کا خواب سیکنڈوں میں بکھر جائے گا۔ آج کے منظرنامے کا خلاصہ صرف ایک جملے میں یہ ہے: "ٹرمپ پیچھے ہٹ چکے ہیں، ایران اپنی جگہ پر مضبوطی سے قائم ہے، اور اسرائیل اپنی چھریاں تیز کر رہا ہے"۔ توبہہ کی اس جنگ کا اصل مقابلہ ابھی باقی ہے۔
Comments
Post a Comment