Musk's ADU scam
امریکہ میں ہاؤسنگ سیکٹر کا ۵۰ سالہ ڈیڈ لاک ختم، نئے وفاقی قانون 'روڈ ایکٹ' کے بعد ماڈیولر کنسٹرکشن میں انقلاب: رئیل اسٹیٹ انڈسٹری میں ۱۰۰ فیصد منافع کے نئے دور کا آغاز، ایلون مسک کے نام پر ۵۰ ہزار ڈالر کے سستے گھروں کا ڈرامہ بھی بے نقاب
امریکہ میں ہاؤسنگ اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے ایک ایسی تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے گزشتہ نصف صدی سے قائم جمود کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ امریکی سینیٹ کی جانب سے بھاری اکثریت (۸۹ کے مقابلے میں ۱۰ ووٹوں) سے پاس ہونے والے نئے قانون "21st Century Road to Housing Act" (روڈ ایکٹ) نے ماڈیولر یعنی فیکٹری میں تیار ہونے والے مکانات کی تعمیر کو ہینڈ کرافٹ بزنس سے نکال کر اسمبلی لائن میں تبدیل کر دیا ہے۔ رئیل اسٹیٹ کے نامور ماہر اور بلڈر ژی چنگ لی لاؤسی (Xicheng Li Laosi) کے خصوصی تجزیے کے مطابق، یہ نیا قانون سرمایہ کاروں کے لیے سالانہ منافع کو ۱۰ فیصد سے بڑھا کر ۱۰۰ فیصد سے بھی اوپر لے جائے گا۔ دوسری طرف، سوشل میڈیا پر ایلون مسک کے نام کا سہارا لے کر 'باکس ایبل' (Boxabl) کمپنی کی جانب سے ۵۰ ہزار ڈالر میں فولڈنگ گھر دینے کے دعووں کو رئیل اسٹیٹ کی تاریخ کا ایک بڑا اسکیم (Scam) قرار دے دیا گیا ہے۔
۱۔ باکس ایبل کا ۵۰ ہزار ڈالر والا گھر ایک 'پونزی اسکیم' کیوں ہے؟
By clicking the link, you will help provide education and food for children.
جب بھی ماڈیولر یا فیکٹری میڈ گھروں کی بات ہوتی ہے، تو عام لوگ ایلون مسک کے نامزد کردہ ۵۰ ہزار ڈالر کے چھوٹے سے فولڈنگ ہاؤس (Boxabl) کی مثال دیتے ہیں۔ لیکن انڈسٹری کے اندرونی حقائق بتاتے ہیں کہ یہ محض ایک دھوکہ ہے:
ایلون مسک سے کوئی تعلق نہیں: اس کمپنی کا نام باکس ایبل ہے اور ایلون مسک نے بارہا خود کو اس سے الگ کیا ہے، لیکن سوشل میڈیا ہینڈلز صرف ویوز اور ٹریفک کے لیے مسک کا نام استعمال کرتے ہیں۔
پوشیدہ اخراجات کا طوفان: ۵۰ ہزار ڈالر کا یہ گھر صرف ایک ڈھانچہ ہے۔ زمین کی بنیاد (Foundation) رکھنے، بجلی، پانی، گیس کے کنکشنز اور فیکٹری سے لانے کے ٹرانسپورٹیشن اخراجات ملا کر یہ گھر ۲ لاکھ ڈالر سے اوپر کا پڑتا ہے۔
ڈیلیوری کا بڑا فراڈ: کمپنی کے پاس ۲ لاکھ سے زائد گھروں کی بکنگ (Backlog) موجود ہے، جبکہ اب تک صرف ۳۰۰ یونٹس ڈیلیوری کیے گئے ہیں۔ یہ ایک روایتی پونزی اسکیم ہے جہاں نئے گاہکوں کے ایڈوانس پیسوں سے پرانے آرڈرز کو پورا کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔
۲۔ امریکہ ماڈیولر کنسٹرکشن میں سوئیڈن سے پیچھے کیوں رہا؟
رپورٹس کے مطابق سوئیڈن میں ۸۴ فیصد گھر فیکٹریوں میں تیار کردہ اجزاء (Prefabricated) سے بنتے ہیں جبکہ امریکہ میں یہ شرح صرف ۵ فیصد ہے۔ اس کی وجہ امریکیوں کا قدامت پسند ہونا نہیں، بلکہ امریکی بینکوں کے قرض دینے کا پرانا طریقہ کار (Loan Pace) ہے۔
روایتی تعمیرات میں بینک مرحلہ وار فنڈز جاری کرتا ہے؛ یعنی پہلے دن فاؤنڈیشن بنے گی تو انسپکشن کے بعد رقم ملے گی، پھر ڈھانچہ کھڑا ہوگا تو اگلی قسط ملے گی۔ لیکن ماڈیولر کنسٹرکشن کا اصول بالکل الٹ ہے۔ فیکٹری کو پہلے دن ہی خام مال خریدنے، اسمبلی لائن بک کرنے اور مزدوروں کی اجرت کے لیے خطیر رقم درکار ہوتی ہے، اس سے پہلے کہ کنسٹرکشن سائٹ پر ایک بھی اینٹ رکھی جائے۔ بینک فیکٹری کو ایڈوانس پیسہ دینے سے انکاری تھے اور فیکٹری بغیر پیسوں کے کام شروع نہیں کرتی تھی۔ اسی ۵۰ سالہ ڈیڈ لاک کی وجہ سے امریکی رئیل اسٹیٹ انڈسٹری جدید دور میں داخل نہیں ہو پا رہی تھی۔
۳۔ روڈ ایکٹ (ROAD Act) نے گیم کیسے بدل دی؟
۱۲ مارچ ۲۰۲۶ کو امریکی سینیٹ سے پاس ہونے والے 'روڈ ایکٹ' نے اسی فائنینشل ڈیڈ لاک کو توڑا ہے۔ اس بل کے دو شقیں سب سے اہم ہیں:
شق ۳۰۱ (Section 301): یہ ماڈیولر تعمیرات کو وفاقی سطح پر ایک یکساں شناخت فراہم کرتی ہے۔ اس سے پہلے ہر ریاست اور شہر کے قوانین الگ تھے، اب پورے امریکہ کے مالیاتی ادارے ایک ہی رول بک پر کام کریں گے۔
شق ۳۰۲ (Section 302): یہ شق براہِ راست ایف ایچ اے (FHA) کو پابند کرتی ہے کہ وہ بینکوں کے قرض دینے کے شیڈول کو دوبارہ لکھے اور فیکٹریوں کو ایڈوانس فنڈز کی فراہمی کو قانونی تحفظ دے۔
اس قانون کے بعد، جو بلڈرز روایتی طریقے سے ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ بنانے میں ۲ سال لگاتے تھے اور ۲۵۰ ڈالر فی اسکوائر فٹ خرچ کرتے تھے، اب وہ ماڈیولر طریقے سے محض ۴ مہینوں میں مین اسٹرکچر تیار کر سکیں گے اور لاگت بھی ۴۰ فیصد کمی کے ساتھ ۱۵۰ ڈالر فی اسکوائر فٹ پر آ جائے گی۔ اس سے سرمائے کی گردش کی رفتار ۶ گنا بڑھ جائے گی اور سالانہ منافع ۱۰۰ فیصد سے ۲۰۰ فیصد تک پہنچ جائے گا۔
۴۔ سرمایہ کاروں کے لیے بہترین موقع اور فیکٹری کیپیسٹی کی قلت
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت امریکہ بالخصوص ریاست واشنگٹن میں ماڈیولر ڈویلپمنٹ کے لائسنس اور بینک کریڈٹ لائنز کا ہونا ایک نایاب پلس پوائنٹ ہے۔ اگرچہ 'روڈ ایکٹ' کے بعد فائنینشل چینلز سب کے لیے کھل جائیں گے، لیکن اگلا بڑا چیلنج امریکی ماڈیولر فیکٹریوں کی پیداواری صلاحیت (Capacity) کا ہوگا۔
جب سینکڑوں نئے ڈویلپرز اپارٹمنٹس بنانے کے لیے فیکٹریوں کا رخ کریں گے، تو جیت ان کی ہوگی جن کے پاس فیکٹریوں کے ساتھ پہلے سے اسٹریٹجک پارٹنرشپ اور ایکویٹی معاہدے موجود ہیں۔ رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کے بڑے کھلاڑیوں نے پہلے ہی امریکہ کی دو سب سے بڑی ماڈیولر فیکٹریوں کے ساتھ لانگ ٹرم معاہدے کر رکھے ہیں تاکہ ان کے آرڈرز ہمیشہ پروڈکشن لائن میں پہلے نمبر پر رہیں۔ وہ سرمایہ کار جن کے پاس مین ہائی وے کے قریب ایسی زمینیں موجود ہیں جہاں ۱۰۰ سے ۲۰۰ یونٹس کے ملٹی فیملی اپارٹمنٹس بن سکتے ہیں، ان کے لیے یہ امریکی تاریخ کا سب سے بہترین جیو پولیٹیکل اور اکنامک ونڈو ہے جہاں وہ جوائنٹ وینچر کے ذریعے اربوں ڈالر کا منافع کما سکتے ہیں۔
Comments
Post a Comment