Who gained the upper hand in the US-Iran negotiations?
امریکہ اور ایران میں تاریخی معاہدہ طے پا گیا؟ وائس پریذیڈنٹ جنیوا روانہ، خفیہ دستاویزات منظرِ عام پر، وائٹ ہاؤس کے 'بیک ڈور ڈپلومیسی' پر اسرائیل برہم، مشرقِ وسطیٰ میں ۶۰ روزہ سیز فائر اور آبنائے ہرمز کھولنے کی اندرونی کہانی
مشرقِ وسطیٰ کی جیو پولیٹکس میں ۱۱ جون ۲۰۲۶ کو اس وقت ایک بڑا دھماکہ ہوا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باقاعدہ اعلان کیا کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ اپنی جنگ ختم کر دی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ایک "انتہائی مضبوط مفاہمت کی یادداشت" (MoU) طے پا گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس (Vance) آئندہ چند روز میں اس تاریخی دستاویزی تقریب پر دستخط کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا پہنچ رہے ہیں۔ اس دورے کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جمعرات کو امریکی فضائیہ کے چار بڑے C-17 ٹرانسپورٹ طیارے جنیوا کے لیے روانہ ہو چکے ہیں تاکہ نائب صدر کی سیکیورٹی اور مواصلاتی آلات وہاں پہنچائے جا سکیں۔ دوسری طرف تہران نے مفاہمت کی یادداشت کی موجودگی کی توثیق تو کی ہے، تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ "کسی بھی حتمی معاہدے پر ابھی آخری فیصلہ ہونا باقی ہے"۔
واشنگٹن سے تہران تک: خفیہ مفاہمت کی ۸ اہم ترین شقیں
معروف امریکی نیوز ویب سائٹ 'ایکسیاس' (Axios) نے امریکی انٹیلیجنس اور اسرائیلی لابی کے ذرائع سے اس خفیہ مفاہمت کی جو تفصیلات جاری کی ہیں، وہ کچھ یوں ہیں:
لبنان سمیت ۶۰ روزہ مکمل جنگ بندی: اس یادداشت کے تحت نہ صرف امریکہ اور ایران بلکہ لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان بھی ۶۰ دن کے لیے جنگ بندی نافذ ہوگی۔ یہ شق مکمل طور پر ایران کے موقف کی عکاسی کرتی ہے، جس نے امریکہ کے ذریعے اسرائیل کو لبنان پر حملے روکنے کے لیے مجبور کیا ہے۔
جوہری مذاکرات کا التوا: اگلے ۶۰ دنوں کے دوران دونوں ممالک نیوکلیئر ڈیل پر بات چیت شروع کریں گے۔ ایران کی اسٹریٹجک کامیابی یہ ہے کہ اس نے سب سے متنازع جوہری معاملے کو مؤخر کروا کر پہلے پابندیوں کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے جیسے معاشی مسائل کو ایجنڈے پر رکھوایا ہے۔
یورینیم کی تلفی اور ۲۰۱۵ کی ڈیل کی واپسی: ایران نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا اور اقوامِ متحدہ کے انسپکٹرز کی نگرانی میں اپنے پاس موجود افزودہ یورینیم (Enriched Uranium) کو پگھلانے یا اس کی شدت کم کرنے پر تیار ہے۔ یہ شق بظاہر ایران کی پسپائی لگتی ہے، لیکن درحقیقت یہ ٹرمپ کا بڑا سمجھوتہ ہے کیونکہ یہ طریقہ کار ۲۰۱۵ کی اوباما دور کی اسی نیوکلیئر ڈیل جیسا ہے جسے ٹرمپ نے کبھی "بدترین معاہدہ" کہا تھا۔
آبنائے ہرمز کی مفت اور فوری بحالی: یادداشت کے مطابق ایران ۳۰ دن کے اندر آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے مفت اور جنگ سے پہلے کی پوزیشن پر بحال کرے گا۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شق انتہائی مبہم ہے کہ آیا یہ "مفت" بحالی عارضی ہے یا مستقل؟ نیز، جنگی زون میں انشورنس کمپنیوں اور جہاز کے مالکان کا اعتماد بحال ہونے میں سالوں لگ سکتے ہیں۔
By clicking the link, you will help provide education and food for children.
امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ: جیسے ہی ایران آبنائے ہرمز کو کھولے گا، امریکہ خلیجِ فارس سے اپنی بحری ناکہ بندی (Naval Blockade) ختم کر دے گا۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، ایران کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنا چند گھنٹوں کا کھیل ہے، جبکہ امریکی بحریہ کو وہاں سے ہٹنے کے بعد دوبارہ پوزیشن لینے میں مہینوں لگ سکتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ خطے پر ایران کا کنٹرول برقرار رہے گا۔
ایرانی تیل کی فروخت پر ۶۰ دن کی چھوٹ: ہرمز کے کھلتے ہی امریکہ ایران کو پابندیوں میں عارضی ریلیف دے گا، جس کے تحت تہران کو ۶۰ دنوں کے لیے عالمی مارکیٹ میں کھل کر تیل بیچنے کی اجازت ہوگی۔ یہ ایران کے لیے ایک بڑی معاشی لائف لائن ہے۔
پابندیوں کا بتدریج خاتمہ: اگر ایران نے ان ۶۰ دنوں میں "سنجیدگی" دکھائی، تو امریکہ اس پر عائد مستقل اقتصادی پابندیاں بتدریج ختم کرنا شروع کرے گا۔
قطر میں منجمد فنڈز کی ریلیز کا خفیہ معاہدہ: ایران کے منجمد اثاثوں کا معاملہ ایک خفیہ ضمیمے (Secret Supplementary Agreement) کے تحت حل کیا جائے گا، جس کے تحت قطر کے بینکوں میں موجود ایرانی فنڈز کا ایک بڑا حصہ تہران کو واگزار کر دیا جائے گا، جسے ایران صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ادویات اور خوراک کی خریداری کے لیے استعمال کر سکے گا۔
اسرائیل کی ناراضگی اور ایکسیاس (Axios) کا دباؤ
اس پورے معاملے میں سب سے دلچسپ کردار میڈیا آؤٹ لیٹ 'ایکسیاس' کا ہے، جس کے بانیان اور اہم ترین صحافیوں کے تعلقات اسرائیلی انٹیلیجنس فورسز سے ہیں۔ سیز فائر کے بعد سے یہ ویب سائٹ مسلسل ایسے امریکی حکام کے حوالے سے خبریں لیک کر رہی ہے جن کا مقصد صدر ٹرمپ پر دباؤ بڑھانا ہے۔ اسرائیل اس بات پر شدید سیخ پا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کو اتنی بڑی رعایتیں کیوں دیں، اور سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ نیتن یاہو حکومت لبنان میں امریکی سیز فائر کے احکامات کو ماننے سے انکار کر سکتی ہے۔
ٹرمپ کا سفارتی انداز: 'فریم ورک' کی سیاست
اگر ہم ۲۰۲۵ اور ۲۰۲۶ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا جائزہ لیں، تو وہ باریک بینی اور جزئیات میں جانے کے بجائے ایک وسیع اور مبہم "فریم ورک" یا یادداشت پر دستخط کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، تاکہ دونوں فریقین اپنی اپنی مرضی کے مطابق اس کی تشریح کر سکیں۔ ٹرمپ کا مقصد صرف یہ ہے کہ واشنگٹن میں یہ تاثر دیا جائے کہ انہوں نے جنگ ختم کرا دی ہے، جبکہ ایران اس ۶۰ روزہ مہلت کو اپنی معیشت کو سنبھالنے اور خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ اب سب کی نظریں جنیوا پر ہیں، جہاں اگلے چند دن مشرقِ وسطیٰ کے مستقل امن یا ایک نئی جنگ کا فیصلہ کریں گے۔
Comments
Post a Comment